شاہجہاں پور، 23دسمبر(آئی این ایس انڈیا) یوپی کی شاہجہان پور جیل میں عصمت دری کے بدنام زمانہ گنہ گار آسارام کی تصویر لگا کر قیدیوں میں کمبل تقسیم کرنے کے معاملے میں چرچا میں ہے۔ ڈی جی جیل آنند کمار نے اس معاملہ کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے تفتیش ڈی آئی جی آر این پانڈے کے حوالے کردی ہے۔ تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ادھر ڈی ایم اندرا وکرم سنگھ نے بھی جیل سپرنٹنڈنٹ سے جواب طلب کیاہے۔ اس کے علاوہ وشو ہندو پریشد نے بھی جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔
وشو ہندو پریشد کے ضلعی عہدیدار راجیش اوستھی نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو نہ صرف آسارام کا پیروکار کہا،بلکہ ایک گنہگار بھی قرار دیا۔وشو ہندو پریشد کے صدر کے مطابق آسارام نابالغہ کے ساتھ عصمت دری کے سنگین الزامات کے تحت جیل کی ہوا کھار ہے ہیں، جیل کے اندر جیل سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں آسارام کی تصویر لگاکر کمبل اور دیگر اشیاء قیدیوں میں تقسیم کیے گئے، یہ سراسر غلط ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ملازمین کو فوری طور پر معطل کرنا چاہئے، اگر کارروائی نہیں کی گئی تو وی ایچ پی احتجاج کرے گی اور جیل کا گھیراؤ کرے گی۔
شاہجہاں پور جیل کی حدود: آسارام نے شہر کی بیٹی سے زیادتی کی، جیل میں اس کی تصویر لگا کر کمبل تقسیم کردیئے گئے۔خیال رہے کہ آسارام نے 2013 میں شاہجہاں پور کے ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ 2018 میں راجستھان کی جودھ پور عدالت نے اس معاملہ میں آسارام کو عمر قید کی سزا سنائی تھی،پیر کے روز جیل میں قیدیوں کو عصمت دری کے مجرم آسارام کی تصویر لگا کر کمبل تقسیم کیے گئے۔ آسارام پر اسی شہر کی ایک لڑکی سے عصمت دری کا الزام ہے۔